ادب اور زندگی”کو گھلا ملا دیکھنے کے خواہاں ہیں

ادب اور زندگی”کو گھلا ملا دیکھنے کے خواہاں ہیں

عسکری صاحب “ادب اور زندگی“کو گھلا ملا دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ ادب کل زندگی سے مواد لے انسان کے ظاہر اور باطن کو یوں ایک کر دے جو اصل زندگی کہلائے زندگی کے کسی ایک زاویے کے اظہار کا ادب، کبھی بڑا ادب نہیں کہلا سکتا۔ عسکری صاحب کی تنقید کے آغاز میں “ترقی پسند”نظریات سے ایک حد تک پسندیدگی کا اظہار ملتا ہے لیکن وہ مکمل طور پر “ترقی پسند”کبھی نہ رہے۔ ان کے ابتدائی مضامین میں “ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب” کے حوالے سے کئی ایک اشارے ہوئے ہیں جب وہ سمجھتے ہیں کہ اب انھیں یہ شبہ پیدا ہونے لگا ہے کہ وہ فن کو زندگی سے الگ دیکھنے کے تو قائل نہیں ہو گئے لیکن اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں

“یہ شبہ پیدا ہونے لگا ہے کہ میں آرٹ کو زندگی سے الگ سمجھتا ہوں لیکن آرٹ اور زندگی کا تعلق تو اتنی ابتدائی اور بنیادی ۔۔۔۔ اس لیے مبتدیانہ چیز ہے کہ بار بار اسے دہراتے رہنے کی ضرورت نہیں یہ صفحے صرف لفظوں کی تراش خراش اور نوک پلک تک محدود نہیں رہ سکتے۔ زندگی ان میں دروازے توڑ توڑ کر گھستی رہے گی۔۔۔۔ مادہ آرٹ کے لیے ضروری سہی لیکن اس پر آرٹ کا عمل ہو چکنے کے بعد وہ مادہ نہیں رہتاکچھ اور بن جاتا ہے۔ مادی چیزوں سے شاعر ایسی شکلیں بنا سکتا ہے جو انسان سے بھی زیادہ حقیقی ہیں۔”؎
عسکری صاحب ادب میں زندگی اور زندگی کے مسائل پر بات کرنے کے خلاف ہرگز نہیں ہیں لیکن انھیں پہلے اس بات کا احساس ہے کہ “کیا لکھنے؟” سے قبل “کیسے لکھنے؟”کو سمجھا جائے۔ ان کو یہ بات ستاتی ہے کہ ہمارے ادیبوں کو لکھنا نہیں آتا اور ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ وہ اس کی طرف مطلق دھیان نہیں دینا چاہتے۔ صرف “خیال”سے کوئی ادب بڑا ادب نہیں بن سکتا۔ اس کی “پیش کش”بھی توجہ مانگتی ہے۔ مزدور، کسان یا روٹی کا ذکر ہی زندگی نہیں ہے۔ زندگی اس کے سوا بھی کچھ ہے۔ عسکری صاحب کا ماننا ہے کہ انھیں ایسے خیالات سے زیادہ دلچسپی ہے.

جنہوں نے زندہ انسانوں کے دل و دماغ میں اثرات چھوڑے ہوں اور انسانوں میں تحریک پیدا کرنے کا باعث ہوئے ہوں۔ اس لیے انھیں حقیقت سے زیادہ افسانے پسند ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ حقیقت پر جب تک انسانوں کے تخیل کا عمل نہیں ہوتا وہ مردہ رہتی ہے۔ “حقیقت میں معنی اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب وہ افسانہ بن جائے یہی وجہ ہے کہ ان کا دل انسانی دماغوں کے عمل اور رد عمل کے مطالعے میں ہی لگتا ہے۔

آپ کے تنقیدی مقالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ “فن برائے فن”کے نظریے کے حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے اس نظریے کی روح نہ سمجھنے والے لوگوں نے غلط فہمیاں پیدا کر دیں اور یوں سمجھا جانے لگا کہ جس ادیب کے ہاں فن یا ادب سے گہری دلچسپی کا اظہار ہوا فوراً اس پر “جمال پرست”یا “فن برائے فن”کا لیبل چپکا دیا۔ ان غلط فہمیوں کو وہ کئی ایک مثالوں سے رفع کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک کمہار جب “گھڑا”بنا رہا ہوتا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس میں پانی رکھا جانا ہے۔ اب یہ حقیقت اس کے شعور میں اس طرح جذب ہو چکی ہے کہ اسے اس کا خیال تک ہی نہیں آتا اور نہ کبھی اس کے دل میں ایسا گھڑا بنانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے جس میں پانی رکھا ہی نہ جا سکے۔ اب دیکھئے مٹی کا استعمال اس کام کی ایک پہلے سے مقرر شدہ شرط ہے اور یوں گھڑے کی افادیت بھی اب ظاہر ہے یہ شرائط جبلی طور پر وہ تسلیم کر چکا ہے لیکن اس کی ساری کوشش اور توجہ پر مرکوز ہے تو صرف اس کی خوب صورتی پر۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ گھڑا بنانے کا خیال کسی مادی ضرورت کے بغیر آگیا ہے مگر اب فن کار کی توجہ کا مرکز و محور “جمالیاتی عنصر”ہے۔ اسی رویے کو وہ کسی بھی ادیب کے لیے ضروری تصور کرتے ہوئے اس کا نتیجہ کچھ یوں پیش کرتے ہیں:

گھڑا بنانے کا خیال ہی اسے ایک مادی ضرورت کے ماتحت آیا ہے۔ مگر اس کی توجہ کا مرکز جمالیاتی عنصر ہے۔ یہی رویہ ایک ادیب اور شاعر کا بھی ہو سکتا ہے بلکہ کسی نہ کسی حد تک ہر کامیاب فن کار کا ہونا چاہیے ورنہ فن کا احترام کیے بغیر فن پیدا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس حد تک تو ہر فن کر فن برائے فن کا قائل ہوتاہ ے۔ اگر سماج میں ہم آہنگی ، یک سوئی اور مرکزیت ہو تو چاہے نظریاتی طور پر فن کا ایک خاص افادی مقصد ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہومگر متذکرہ بالا قسم کی فن پرستی کا وجود ناگزیر ہو جاتا ہے۔اگر روس میں خالص اور ہم آہنگ اشتراکی تہذیب کبھی مکمل ہوئی تو اس دور کے روسی بھی فن پرستی سے نہیں بچ سکیں گے۔”17

ایک عمومی غلط فہمی

جو “فن برائے فن”کے نظریے سے وابستہ سمجھی جاتی ہے کہ ایسا فن کار زندگی کی تمام دلچسپیوں اور متعلقات سے خود کو بے نیاز کرتے ہوئے محض جمالیاتی تسکین کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ عسکری صاحب کا کہنا ہے کہ ایسا نمونہ آپ کو ادب میں تو کہیں دستیاب نہیں ہو گا ہاں یہ ضرور ہے کہ کوئی فن کار جمال پرستی کا دھن میں اپنے تجربات محدود کرلے اور یوں اپنی تخلیقات کو نقصان پہنچائے ۔ اس بری مشکل میں اس نظریے کو شاید ہی کسی قدآور شخصیت نے قبول کیا ہو۔ ہاں اس کھوج میں جب لوگ چلے کہ فن اور دوسرے ذہنی عوامل کا فرق معلوم کیا جائے تو نتیجہ اس صورت میں سامنے آیا کہ فن کی روح تو جمالیاتی تسکین ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ فن کاروں نے نظریاتی طور پر فن برائے فن کے اصول کو تسلیم کر لیا ہو لیکن عملی طور پر ایسا کوئی معقول فن کار نظر نہیں آتا جس نے اس نظریے پہ چلتے ہوئے زندگی کے اہم ترین پہلوؤں کو نظر انداز یا اس کے بارے دلچسپی ختم کر لی ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *