محمد حسن عسکری کی تنقیدی تفہیم

حسن عسکری صاحب کی اردو تنقید کی تفہیم

ہم اسے طفل مکتب کے لیے نہایت کارِ دشوار سے بھی سوا ہے کہ جو آدمی یہ سمجھتا ہو کہ وہ افسانہ نگار کہلانا پسند کرتا ہے نہ نقاد اور ساتھ ہی یہ سمجھتا ہو کہ اس کے لیے مغرب کے ادب اور مشرق کے ادب پر ان کے دونوں قسم کے مضامین الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ نہ تو وہ کسی کو دیرکی طرف بلاتے ہیں نہ حرم کی طرف۔ مطالعہ کے بعد جو رد عمل پیدا ہوتا ہے صرف اسے ہی بیان کے دیتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ وہ خود اعلان کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایسی کامل ہستی نہیں سمجھتے کہ جو وہ کہیں وہی فکر مطلق اور خیال مجرد ٹھہرے بلکہ ان کا تو اصرار ہے کہ ان کے خیالات محض ان کے تعصبات ہیں جو تیزی سے بدلتے رہتے ہیں، وہ صرف اپنے اعصاب کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کی لڑکھڑاتی کوشش کر سکتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ پیشین گوئی کرنے سے جھجکتے نہیں ہیں چاہے بعض دفعہ اپنی ہی تردید کیوں نہ کرنے پڑے۔
“کم بخت ادب میں جہاں بیس مصیبتیں ہیں وہاں ایک جھگڑا یہ بھی ہے کہ اس کے ایک عنصر کو باقی عناصر سے الگ کر کے سمجھنا چاہیں تو بات آدھی پونی رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔ ابھی ایک پہلو کے متعلق کوئی بات کہہ کے مطمئن بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ پتا چلا یہ پہلو دوسرے پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ جبھی تو ادبی تنقید کا کام ہوا سے لڑنے کے برابر ہے۔”
عسکری صاحب نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1939ء سے کیا ابتداً وہ افسانہ نگار کے روپ میں سامنے آئے۔ ہر آدمی کو سمجھنے کے لیے اس کے ماحول اور اس کے ماحول کے پس منظر کو قریبی دخل ہونے کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی مخصوص تاریخ بالخصوص مسلمانوں کے یہاں اثرات عسکری صاحب کے ذہن میں موجود ہیں۔ 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامیابی اور پھر انگریزوں کا غلبہ۔ یقیناً یہاں تہذیب کی تبدیلی کا دور بھی ہے گزشتہ باب میں اس ضمن میں بہت کچھ مذکور ہوا اب اگر ہم 1936ء میں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر “نیا ادب”شروع ہوا جس کے عسکری بڑے مداح رہے ہیں۔ اگرچہ جلد ہی یہ نیا ادب ترقی پسندی اور جدیدیت میں تقسیم ہو گیا۔ لیکن عسکری کو ہم ان دونوں کے اثرات سے مملو دیکھتے ہیں ہان یہ ضرور ہے کہ جدیدیت کے زیادہ قریب ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بڑا آدمی کبھی کسی جماعت میں مقید نہیں رہ سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عسکری بھی جدیدیت پرست ہوتے ہوئے بھی ان باقی جدیدیوں سے ممتاز نظر آتے ہیں۔

افسانہ نگار عسکری 1944ء میں باقاعدہ ایک نقاد کے روپ میں “جھلکیاں”سے آغاز کرنے سے ایک سال قبل “جزیرے” کے “اختتامیہ”میں اردو ادب کے بارے میں تنقید کی اہمیت کے بارے کچھ یوں کہتے ہیں:
“اردو ادب جہاں پہنچ چکا ہے ، اسے مجموعی حیثیت سے آگے بڑھانے کے لیے تخلیقی جوہر کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی ایک پُر از معلومات اور جان دار تنقید کی اس تنقیدی تحریک کو تازی ترین معاشی، سیاسی، اخلاقی، نفسیانی، عمرانی اور فلسفیانہ نظریوں سے مسلح تو ہونا ہی ہو گا، لیکن سب سے زیادہ اس کے لیے مغرب اور مشرق کی ادبی اور تنقیدی تاریخ سے پوری آگاہی لازمی ہو گی۔”
جب انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ادب کو تخلیق نہیں تنقید کی ضرورت ہے تو انھوں نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ تنقید کیا اور کیسی ہو گی وہ اس بات کو بھی رد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ تنقید کا فریضہ کیا ہے؟ مروجہ تنقید اور اس کے اصول و ضوابط سے وہ تنقید کو بالا چیز بنانے کے خواہاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تنقید کا فریضہ یہی ہے کہ وہ ادب پاروں کی جانچ کرے ان کی قدر و قیمت کا تعین کرے تو ایسا تو تنقید پہلے سے کر رہی ہے لیکن اس سے ادب میں جس جمود کا سامنا ہے وہ تو دور نہیں ہو پا رہا اس لیے ہمیں ایسی تنقید سے سروکار ہے۔ جو زندہ تخلیقی سرگرمیوں سے تعلق رکھتی ہو۔ ؎
اب اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ عسکری کو تنقید کا انتخاب اردو ادب کی ترقی کے لیے کرنا پڑا ان پر یہ واضح ہو چکا تھا کہ ادب میں کچھ بڑا پیدا کرنے کے لیے اسے نئی راہیں سجھانی پڑیں گی ورنہ شاید اس کا نام بھی نہ رہے۔ اب عسکری نے اپنے ادب کا اس طرح سے جائزہ لینا شروع کیا تو اسے محسوس ہوا کہ ہمارے تخلیق کاروں کے پاس تو الفاظ ہی بہت محدود ہیں تو وہ بڑا ادب کیسے پیدا کریں گے اگر الفاظ ہیں تو مطلب ان کا زندگی کا مشاہدہ نہیں ہے جب اکیلے شیکسپئر نے اپنے ادب کو چھبیس ہزار الفاظ دے دیئے اور ادھر عالم یہ ہے کہ اردو کے پاس کل ملا کے چھپن ہزار الفاظ اور آج کل کے ادیبوں کے پاس تو شاید دو تین ہزار سے زیادہ نہ ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں الفاظ اس آدمی کو یاد ہوتے ہیں جو زندہ ہو اور جسے زندگی کے تمام عوامل اور مظاہر سے اک جذباتی وابستگی ہو اس ساری بحث کو عسکری صاحب کے الفاظ سے دیکھ لیتے ہیں
“الفاظ محل اظہار کا ذریعہ ہی نہیں ہیں، ان کے پیچھے یہ خواہش کام کرتی ہے کہ ہم دوسروں سے تعلق پیدا کریں۔ چنانچہ لفظوں کو قابو میں لانے کے لیے آدمی کے اندر دو چیزیں ہونی چاہیں ایک تو زندہ رہنے اور زندگی سے دلچسپی رکھنے کی خواہش، دوسرے انسانوں سے تعلق رکھنے کو خواہش، شیکسپئر نے چھبیس ہزار الفاظ لغت میں سے نقل نہیں کیے تھے بلکہ چیزوں اور انسانوں کی دنیا سے چھبیس ہزار طرح متاثر ہوا تھا کیوں کہ ایک سیدھا سادا اور بذات خود مہمل سا لفظ “اور” استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت میں اتنی لچک موجود ہے کہ وہ اپنی دلچسپی کو ایک چیزسے دوسری چیز تک منتقل کر سکے اس کے اندر گہرائی ہے کہ بیک وقت دو چیزوں کا احاطہ کر سکے۔ بہت سے لوگوں کی شخصیت ٹھٹھر کے رہ جاتی ہے تو اس لیے کہ وہ اپنی روح کی گہرائیوں میں سے “اور”کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔۔۔۔۔ مقصود میرا بس اتنا تھا کہ ادیبوں کے پاس لفظ کم رہ جائیں تو پورے معاشرے کو گھبرا جانا چاہیے۔ یہ تو ایک بہت بڑے سماجی خلل کی علامت ہے۔”؎

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *