اب یہاں نہ تو کسی سے وال کیا گیا ہے

اب یہاں نہ تو کسی سے وال کیا گیا ہے

نہ کوئی سوال کرتا ہے، شاعر بالکل غائب ہے، اس سوال کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ یا یوں کہیے کہ یہ خود اپنا جواب ہے۔ کیا یہ جھوٹا (استفسار ہے؟) نہیں نہیں یہ تو ہے یہ مطلق استفسار۔ اس نے تو روح کے ایک حسیں لفظ کو استفسار یہ ہستی عطا کر دی ہے۔ یہاں استفساریہ ایک چیز بن گیا ہے۔ جیسے سٹوریٹو کا “درد و کرب” زرد آسمان بن گیا تھا۔ اور راں بو دعوت دیتا ہے کہ ہم اس کے ساتھ مل کر اسے باہر سے دیکھیں۔ اب اس میں عجب پن اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے ہم انسانی کیفیت کی حدوں سے باہر نکل جاتے ہیں اور اسے وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے خدا دیکھتا ہے۔
عسکری صاحب کا کہنا ہے کہ اس نیا فن تخلیق کرنے کی کوشش کو ایک عظیم کارنامہ تسلیم کر لیں تو ایک اعتراض یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض لوگوں نے زندگی کا اظہار کرنے کے بجائے اظہار کے عمل اور اظہار کے ذرائع کو اظہار کا موضوع بنایا بلکہ والیری کا تو کہنا ہی یہی ہے کہ اسے تو بس طریقہ کار سے دل چسپی ہے۔ اگر آدمی اظہار کا طریقہ

ڈھونڈلے تو پھر اظہار کی بھی ضرورت نہیں رہتی اس بحث پر حسن عسکری کچھ یوں رقم طراز ہیں

“اگر آپ صرف نظریوں تک محدود رہیں تو واقعی یہی معلوم ہوتا ہے کہ

یہ لوگ زندگی سے بیگانے ہو گئے ہوں گے۔ مگر سول میرا یا آپ کا نہیں فنکار کا ہے۔ اور فن کار بھی کیسے مالارمے اور والیری جیسے، اگر اس پائے کا فن کار یہ تفتیش شروع کرتا ہے کہ اظہار کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ اظہار میں خلل کس طرح اور کن باتوں سے پڑتا ہے اور یہ رکاوٹ کس طرح دور ہوتی ہے تو ناممکن ہے کہ وہ انسانی دماغ اور انسانی زندگی کے سب سے بنیادی عناصر تک نہ پہنچ جائے۔ چنانچہ موت و حیات، جسم اور روح، خیر اور شر، عدم اور وجود، غرض انسان کے وہ کون سے بنیادی مسائل ہیں جو ہمیں مالارمے اور والیری کے کلام میں نہ ملیں۔ والیری نے جو نظمیں اظہار کے مسائل سے متعلق لکھی ہیں انھیں پڑھتے ہوئے ہمیں انسان کے بارے میں بڑے گہرے انکشافات ہوتے ہیں بلکہ اچھا خاصہ ایک فلسفہ زندگی مرتب کیا جا سکتا ہے۔”


عسکری کا کہنا ہے کہ ان تخلیق کاروں نے موت سے کشمکش کی ہے

اور موت پر فتح پائی ہے یہ کہنا کہ ان تخلیق کاروں میں زندگی گھٹتے گھٹتے اتنی کم ہو گئی تھی کہ ان کے یہاں موت و حیات کا فرق ہی ختم ہو گیا تھا، درست نہیں ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ گریبان پھاڑ کے “زندگی! زندگی!” چلاتے ہوئے نہیں بھاگے۔ ان لوگوں کا خاص لب و لہجہ ہے۔ اسی کے اندر رہ کے بات کرتے ہیں زندہ رہنے کی خواہش کا اظہار ملارمے کی ای

ک نظم کے ترجمے سے ظاہر کیا اور زور دیا کہ ذرا لہجہ کے مہذب پن کو دیکھیے:
“لیکن اے میرے دل! ذرا ملاحوں کا گانا تو سن!

والیری نے مرگ پر فتح پانے کی خواہش کو کس خوب صورت اندار میں بیان کیا ہے
“ہوا سنکنے لگی، جینے کی کوشش کرنی چاہیے!”

عسکری صاحب کا کہنا ہے کہ

ان شاعروں اور ادیبوں کو لعنت ملامت اس لیے کی جاتی ہے کہ انھوں نے سماجی مسائل کو قابل اعتنا نہیں سمجھا لیکن اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ان لوگوں نے کسی خاص جماعت کی سیاست کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ یہ تو کئی بار عسکری صاحب لکھ چکے کہ وہ ہر قسم کے جامد تصورات سے اپنے آپ کو الگ رکھنا چاہتے تھے مگر سیاست یا سیاسی جماعتوں سے الگ رہنا ان کے لیے اور بھی ضروری تھا کیوں کہ سیاسی لوگ اپنے عزیز ترین تصورات کو بھی مصلحت پر قربان کر سکتے ہیں۔ یہ ڈر کوئی خیالی ڈر نہ تھا بلکہ بودلیر، ورلین، راں بو انقلابات میں خود حصہ لے کے سیاسی لوگوں کی حقیقت کا تجربہ کر چکے تھے۔ بودلیر نے تو یہاں تک کہا تھا کہ “بھلا جمہوریت پرستی سے کون بچ سکتا ہے یہ تو آتشک کے جراثیم کی طرح ہمارے خون میں ملی ہوئی ہے۔ عسکری صاحب کہتے ہیں.

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بودلیر عوام کا دشمن تھا

۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ

ہم جانتے ہیں کہ سیاسی لوگ جمہوریت کا نام لے کر کس طرح اپنا “الو سیدھا” کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ہم جمہوری نظام کی خواہش کرنے پر طبعاً مجبور ہیں۔ عسکری صاحب فن برائے فن کے اندھے مقلدین میں نہ تھے وہ اس نظریے سے ابتدا پانے والی روایت سے تعلق رکھنے والے فن کاروں کے یہاں ادھر اُدھر جو غیر صحت مند عناصر ملتے ہیں اس کے انکاری نہیں ہیں لیکن انھیں اس بات سے ضرور انکار تھا کہ یہ روایت مجموعی حیثیت سے عوام یا بہترزندگی یا حیاتِ محض کی دشمن ہے اور انسانیت کو انحطاطا یا موت کی طرف لے جاتی ہے جیسا کہ ترقی پسندوں کا ماننا تھا۔ اس کے برخلاف حسن عسکری اس روایت کو ایک عظیم الشان تحقیقی مہم کی حیثیت رکھنے والی روایت تصور کرتے ہیں جو زندگی اور زندگی کے بنیادی لوازمات کو ڈھونڈنے نکلی ہے اور اس ہمت اور خود اعتمادی کے ساتھ کہ کسی بنے بنائے تصور کا سہارا تک نہیں لیا یہ تحریک خیر اور صداقت کے بنیادی وجود سے منکر نہیں بلکہ ان کا مکمل اثبات چاہتی ہے۔ ایسا اثبات جو شاید انسان سے ممکن بھی نہیں ہے ۔ انسان کا اعصابی نظام جتنا کرب اور اذیت سہہ سکنے کی سکت رکھتا ہے اسے ان فن کاروں نے آگے بڑھ کر قبول کیا ہے تا کہ انسانیت کو حقیقت سے روشناس کرا سکیں اور اس لگن میں انھوں نے آسانیاں نہیں ڈھونڈیں، کسی مفاد سے سمجھوتا نہیں کیا۔ مکمل صداقت کے علاوہ کسی اور چیز کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی بعض کوششوں میں بالکل ہی ناکام گئے ہوں لیکن یہ فن کوئی سیاست کا میدان تھوڑی ہے کہ فیصلہ کامیابی اور ناکامی کی بنیاد پر ہو یہاں “چلنا ہی سب کچھ ہے پہنچنا نہ پہنچنا سب برابر ہے۔” یورپ کا شعور زندگی سے بے گانہ ہوتا جارہا تھا۔ انھوں نے جہاں تک ہو سکا زندگی کو قائم رکھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *